حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی 29 اگست 2026ء قائدِ مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین (1914ء - 1983ء) کی 43ویں برسی کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: علامہ مفتی جعفر حسین دستور کے تحت قائم ہونے والے اسلامی قوانین کے پہلے ادارے ’’تعلیمات اسلامیہ بورڈ‘‘ کے رکن تھے اور ان 31 علماء میں شامل تھے جنہوں نے 22 نکات مرتب کیے۔ وہ نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے تاہم اسلامائزیشن کے حوالے سے اختلافات کے باعث مستعفی ہوگئے تھے۔ عوام کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد اپنی مثال آپ تھی۔
انہوں نے کہا: علامہ مفتی جعفر حسین نے شدت پسندی اور شرپسندی کی نفی کرتے ہوئے اعتدال اور اتحاد کو ہمیشہ مدنظر رکھا۔ انہوں نے ملک کو درپیش داخلی و خارجی مسائل پر آواز بلند کی اور اپنے اصولی مؤقف کے ذریعے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی۔ وہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور حقیقی جمہوریت کی عدم دستیابی پر ہمیشہ متفکر رہتے تھے کیونکہ سیاسی عدم استحکام کو ملکی بقا کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں علامہ مفتی جعفر حسین، قائدِ اول علامہ سید محمد دہلوی کی جانب سے شروع کی گئی ملی جدوجہد کا حصہ رہے اور ان کے ہمرکاب ہوکر اس جدوجہد میں بنیادی کردار ادا کیا۔ علامہ مفتی جعفر حسین نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں حکمرانوں سے مایوس ہوکر ایم آر ڈی میں شمولیت اختیار کی، جس میں ہماری بھی نمائندگی رہی اور ہم نے اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کیا۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا: علامہ مفتی جعفر حسین ایک حقیقت پسند رہنما تھے اور انہوں نے اعتدال پسندی، اتحاد و یکجہتی اور صاف ستھری سیاست کے گہرے نقوش چھوڑے جو ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ وہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنے پر زور دیتے رہے اور اس بات پر متفکر تھے کہ اگر آئین و قانون کو بالادستی حاصل نہ ہوسکی تو ملک شرپسندوں اور فرقہ پرستوں کے ہاتھوں تباہی کی طرف چلا جائے گا۔ ان کی دوراندیشی اور وسیع سوچ آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: دورِ آمریت میں پیرانہ سالی کے باوجود اپنے جائز اور دستوری حقوق کی جدوجہد جاری رکھنا علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کا خاصا تھا۔ انہوں نے تمام طبقات کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی اور واضح کیا کہ جبر و ظلم کے ذریعے کسی کے جائز حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالا جاسکتا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: علامہ مفتی جعفر حسین کی سربراہی میں حقوق کے تحفظ کے لیے ہونے والے تاریخی احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کے حکمرانوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ہر شہری کے حقوق کا پورا پورا احترام کیا جائے گا اور کسی کو دوسرے پر فوقیت نہیں دی جائے گی۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا: علامہ مفتی جعفر حسین ایک نابغۂ روزگار شخصیت تھے جن کے اندر مختلف صلاحیتیں اور مہارتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔ ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی اور انہوں نے علمی و عملی دونوں میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ تصنیف، ترجمہ اور تبلیغ میں ان کا منفرد مقام تھا تو ملی جدوجہد میں بھی وہ اعلیٰ مرتبے کے حامل تھے۔









آپ کا تبصرہ